78

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس ،سپریم کورٹ کا لاہورہائیکورٹ کو نئی جے آئی کوکام سے روکنے کے مقدمے کا 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس میں لاہورہائیکورٹ کو نئی جے آئی کوکام سے روکنے کے مقدمے کا 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی نئی جے آئی ٹی کی بحالی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پرانی جے آئی ٹی نے متاثرین کے بیان ریکارڈ نہیں کئے تھے،نئی جے آئی ٹی کیخلاف کچھ لوگوں نے لاہورہائیکورٹ سے رجوع کیا،حکم امتناعی کے بعد لاہورہائیکورٹ سے التوالیا جاتا رہا۔

عدالت نے کہاکہ ہائیکورٹ نے 3 ججز نے عدالت عظمیٰ کے پانچ ججز کے فیصلے کیخلاف حکم امتناع دیا ،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ کیوں نہ لاہورہائیکورٹ کا عبوری حکم واپس لے لیں،کیوں نہ ہائیکورٹ کا عبوری حکم واپس لے کر نئی جے آئی ٹی کو کام کی اجازت دے دیں۔

عدالت نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں کئی زندگیاں چلی گئیں لوگ زخمی بھی ہوئے،سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں لوگوں کی زندگیاں گئیں جلداز جلد فیصلہ ہونا چاہئے،سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس میں لاہورہائیکورٹ کو نئی جے آئی کوکام سے روکنے کے مقدمے کا 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت نے کہاکہ رجسٹرارسپریم کورٹ کا حکم چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کے سامنے رکھیں ،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ معاملے پر بنچ تشکیل دیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں