108

ماحولیاتی آلودگی سے متعلق ،سپریم کورٹ کا سی ڈی اے ملازمین کے تبادلوں سے متعلق این آئی آر سی کو 2 ہفتے میں فیصلے کا حکم

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سپریم کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس میں سی ڈی اے ملازمین کے تبادلوں سے متعلق این آئی آر سی کو دو ہفتے میں فیصلے کا حکم دیدیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ چیئرمین این آئی آر سی 2 ہفتے بعد عدالت میں رپورٹ پیش کریں،عدالت نے بلدیاتی اختیارات منتقلی پر سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب کرلیا۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے اسلام آبادکو اپنی فوڈ اتھارٹی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے زائد المعیاد اشیا منگوائی جاتی ہیں ،دبئی والے اپنی ایکسپائر چیز یں پاکستان بھجوادیتے ہیں ۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد نے کہاکہ کشمیرہائی وے کو ڈویلپ کرنے جا رہے ہیں،سی ڈی اے کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے جی ایٹ میں انٹرچینج زیرتعمیر ہے ،ایف سیون میں بھی انٹرچینج بنایا جائے گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کشمیرہائی وی پر چند ہی درخت لگے ہیں ،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ کشمیرہائی وے کے اطراف مزید شجرکاری کی جارہی ہے ۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ سی ڈی اے کا اپنے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں ،سی ڈی اے میں کلرک چیئرمین سے زیادہ طاقتور ہیں ۔

چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد نے کہا کہ جن کا تبادلہ کرتاہوں وہ حکم امتناع لے آتے ہیں ،این آئی آر سی کا تبادلے رکوانے میں کوئی کردار نہیں ہوناچاہئے ،کرپٹ مافیا کی معطلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ کرپٹ ملازمین اور افسروں کے کیسز ایف آئی اے کو بھیجنے کافیصلہ کیا ہے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اسلام آبادشہر کو اتناکیوں پھیلایا جارہا ہے ؟کیا صنعتی زون بنانا چاہتے ہیں ؟،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج تمام تبادلوں پر جاری حکم امتناع ختم کردیں گے ،ایسی صنعتوں کو نہ چلائیں جو شہرکو آلودہ کریں ،چیف جسٹس پاکستا ن نے کہا کہ سی ڈی اے رپورٹس میں اچھی انگریزی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا،چاہتے ہیں معیشت خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بیرون ملک سے زائد المعیاد اشیا منگوائی جاتی ہیں ،دبئی والے اپنی ایکسپائر چیز یں پاکستان بھجوادیتے ہیں ۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے اسلام آبادکو اپنی فوڈ اتھارٹی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فندز کا ایشو ہے ایم سی آئی کے 90 فیصد فنڈز تنخواہ میں چلے جاتے ہیں ۔
چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیا کہ شہر کی صفائی کرنے والے 700 ملازمیں کدھر ہیں ،چیف جسٹس نے میئراسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیاآپ باہر نہیں جاتے ؟،میئر اسلام آبادنے کہا کہ باہر جاتا ہوں میرے بچے باہر ہیں ۔چیف جسٹس نے میئراسلام آباد کو شہر کا چکرلگانے کی ہدایت کردی۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کام کریں گے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کی ضرورت نہیں سی ڈی اے اپناکام خود کرے ،شہرکا بلیو ایریاکورا کرکٹ سے بھراپڑا ہے ۔
دوران سماعت سپریم کورٹ نے میئراسلام آباد کی سرزنش کردی،چیف جسٹس نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آبادوالوںکو ٹرانسپورٹ کیوں نہیں دیتے ؟،کچھ نہیں کرنا تو کم ازکم رکشے ہی چلا دیں تاکہ خواتین محفوظ سفر کرسکیں ،اب سڑکو ںسے نکل کر سکائی اور انڈر گراﺅنڈٹرین کی طرف آئیں ۔

عدالت نے سی ڈی اے ملازمین کے تبادلوں سے متعلق این آئی آر سی کو دو ہفتے میں فیصلے کا حکم دیدیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ چیئرمین این آئی آر سی 2 ہفتے بعد عدالت میں رپورٹ پیش کریں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اسلام آباد کے نالوں میں تو کشتیاں چلنی چاہئیں،ہر کام کیلئے فنڈز کا رونا ڈالنا درست نہیں ۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ایم سی آئی کے نالے صاف کرنے کیلئے عملہ موجود ہے ،عدالت نے این آئی آر سی کو وفاقی ترقیاتی ادارے کے تمام مقدمات کافیصلہ 6 ماہ میں کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے کہا کہ میئراسلام آباد بے اختیار ہیں ایم سی آئی کے پاس تنخواہو ں کے علاوہ کسی کام کیلئے فنڈزنہیں ،سپریم کورٹ نے بلدیاتی اختیارات منتقلی پر سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب کرلیا،عدالت نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ پیش ہوکر بتائیں آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمدکیلئے کیااقدامات کئے؟ ،عدالت نے میئراسلام آباداور چیئرمین سی ڈی سے ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں