105

شیریں مزاری سے بہت متاثر ہیں ،ان کو بلایا بھی نہیں اوروہ یہاں موجود ہیں ،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ،بچوں پر تشدد سے متعلق درخواست پر سیکرٹری قانون طلب

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)اسلام آبادہائیکورٹ میں بچوں پر تشدداورجسمانی سزاپر پابندی کیلئے گلوکار شہزادرائے کی درخواست پر آئندہ سماعت پر سیکرٹری وزارت قانون کو طلب کرلیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ شیریں مزاری سے بہت متاثر ہیں ،ان کو بلایا بھی نہیں اوروہ یہاں موجود ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں بچوں پر تشدداورجسمانی سزاپر پابندی کیلئے گلوکار شہزادرائے کی درخواست پر سماعت ہوئی، گلوکار شہزادرائے اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ شیریں مزاری سے بہت متاثر ہیں ،ان کو بلایا بھی نہیں اوروہ یہاں موجود ہیں ،وکیل شہزادرائے نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ٹرٹیٹیز اور کنونشن پر عمل درآمد کرنے کے احکامات صادر فرمائیں ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ کچھ صوبوں میں قوانین پر عملدرآمد کیا جارہا ہے ،وکیل شہزاد رائے نے کہا کہ سندھ ،خیبرپختونخوا میں سکولوں میں بچوں کیخلاف تشددکاقانون نافذالعمل ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ وفاقی حکومت میں پھر کیا مسئلہ ہے ،شیریں مزاری نے کہاکہ کابینہ نے بل منظور کرلیا ہے وزارت قانون نے کہا کہ بل وزارت داخلہ کا اختیار ہے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاکابینہ نے بل کی مشروط منظوری دی تھی ؟،آرٹیکل 14 کے مطابق بچوںپر تشدداوران کے جذبات سے نہیں کھیلا جا سکتا ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ قرآن میں ہے انسان اللہ کی سب سے بہتر مخلوق ہے ،بچوں کوتوزیادہ عزت دینی چاہئے ،جسمانی تشددسے اگر بچے کو نقصان ہوتا ہے تووہ جرم ہے ،کلا س میں بچوں کے جذبات سے کھیلاجائے تو اسکی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی وزیر سے استفسار کیا کہ اس عدالت کو کیاکرناچاہئے ؟چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ جن بچوں کی تشدد سے اموات ہوئیں اس کا ازالہ کون کرے گا ؟،شیریں مزاری نے کہا کہ اگرعدالت اس حوالے سے فیصلہ دے تو مستقبل میں بچوں کا تحفظ کیا جاسکتا ہے ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ گارڈین بھی بچوںپر تشدد کی اجازت نہیں دے سکتا ،سیکشن 89 میں لکھا ہے گلوکارشہزاد رائے سیکشن 89 کی غلط تشریح کی جاتی ہے ،اگرقانون کوئی بھی نہیں تو بھی بچوں کو ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا ،بچوں کے جذبات کیساتھ نہیں کھیلا جاسکتا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ماضی میں بچوں پر تشددکے جوکیسزہوئے اگلی سماعت پر اس حوالے سے بتائیں ،سیکشن 89 میں اصلاح کیلئے تشدد کی جو تشریح ہوئی اس پر معاونت کریں ،بچوں کے ساتھ جنسی اورجسمانی تشدد کیا جاتا ہے ،اس کا حل سرعام پھانسی دینا نہیں ذہنیت کو تبدیل کرنا ہے ۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بل کی منظوری دی،اس کوپارلیمنٹ میں بھیجا جا سکتا ہے،شیریں مزاری نے کہاکہ وزارت قانون کو بل پارلیمنٹ میں بھیجنے کی ہدایت دی جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم وزارت قانون سے کسی کو بلا لیتے ہیں ،اسلام آبادہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری وزارت قانون کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ سیکرٹری لا بتائیں بل کوپارلیمنٹ میں کیوں پیش نہیں کیا جاسکتا ؟،عدالت نے بچوں پر تشدداورجسمانی سزاپر پابندی کیلئے گلوکار شہزادرائے کی درخواست پر سماعت 30 مارچ ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں